جام[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (کسی چیز کے) پھنس جانے یا اٹک جانے کی حالت۔ "جام عام لفظ ہے . کسی چیز کے بھچ جانے یا پھنس جانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٥١ ) ٢ - مشین وغیرہ کے کسی پرزے کا جکڑاؤ یا پھنساؤ، غیر متحرک حالت۔ "خودکار اسٹیرنگ گیر اور دستی گیر دونوں جام ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء 'اردو ڈائجسٹ' اکتوبر، ٨٤ )

اشتقاق

اصلاً انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں انگریزی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی عربی رسم الخط کے ساتھ اردو میں مستعمل ملتا ہے۔ ١٩٥٥ء میں "اردو میں دخیل یورپی الفاظ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی چیز کے) پھنس جانے یا اٹک جانے کی حالت۔ "جام عام لفظ ہے . کسی چیز کے بھچ جانے یا پھنس جانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٥١ ) ٢ - مشین وغیرہ کے کسی پرزے کا جکڑاؤ یا پھنساؤ، غیر متحرک حالت۔ "خودکار اسٹیرنگ گیر اور دستی گیر دونوں جام ہیں۔"      ( ١٩٧٤ء 'اردو ڈائجسٹ' اکتوبر، ٨٤ )

اصل لفظ: Jam
جنس: مذکر